جام[1]
معنی
١ - گلاس، پانی پینے کا برتن۔ "نوکروں پر حکم کیا ایک آدمی کی خوراک کھانا اور ایک جام پانی دیا کرو۔" ( ١٨٢٤ء، سیرعشرت، ٧٢ ) ٢ - [ مجازا ] شراب کا پیالا، ساغر، پیالہ، ایاغ۔ رکھا ساقی نے شیشہ ساں گریاں کبھی خنداں نہ شکل جام کیا ( ١٩٠٣ء، نظم نگاریں، ٤٧ ) ٣ - [ تصوف ] باطن عارف، حقیقت جامعہ۔ "خدات کی ذات میں مل جانے کو جام کہتے ہیں۔" ( ١٨٦٨ء، کشاف اسرار المشائخ، ١٥ )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦١١ء میں "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گلاس، پانی پینے کا برتن۔ "نوکروں پر حکم کیا ایک آدمی کی خوراک کھانا اور ایک جام پانی دیا کرو۔" ( ١٨٢٤ء، سیرعشرت، ٧٢ ) ٣ - [ تصوف ] باطن عارف، حقیقت جامعہ۔ "خدات کی ذات میں مل جانے کو جام کہتے ہیں۔" ( ١٨٦٨ء، کشاف اسرار المشائخ، ١٥ )